آفتاب خان ۔۔۔ دو غزلیں

نہ آدمی پہ خدا کی زمین تنگ کرو
اگر ہو جنگ ضروری ، ضرور جنگ کرو

جمی ہوئی ہے سیاہی طویل مُدّت سے
کبھی تو دِل کے مکاں پر سفید رنگ کرو

حیات جس نے گزاری ہے بندگی میں سدا
نہ ہمکنار اُسے دستِ تیغ و سنگ کرو

ہے جس پہ عُمر بِتانی ، چُنو وہی بستر
جو نیند بخشے ، وہی منتخب پلنگ کرو
عقیدتوں کی بَلندی پہ لوگ رشک کریں
دھمال ناز کرے ، خود کو یوں ملنگ کرو

جو لوگ بابِ تحیّرکی سمت جا نہ سکے
اُنھیں بھی سونپ دو حیرت ، اُنھیں بھی دنگ کرو

منافقت کے لبادے کا اُس پہ ہو نہ گماں
سو آفتاب کرو بات جو ، دبنگ کرو

۔۔۔

نِکل سکا نہ اس لیے بھی سیپ سے صَدف ابھی
کہ سب ہی لوگ پالتے ہیں دوسرے شغف ابھی
کِسی کو آبِ زندگی سے کب رہی ہے کچھ غرض
سمیٹنے لگے ہیں سب ، سمندروں سے کف ابھی
یہ عہد نامۂ وفا قبولیت نہ پا سکا
کہ تُو نے اس پہ دستخط کیے ہوئے ہیں رف ابھی
پیامِ آخری سُنا کے جا چکا پیامِ بر
مگر سنائی دے رہا ہے دُور ہی سے دَف ابھی
سُنا ہے پھر نیا اِمام اب پڑھائے گا نماز
عقیدتوں سے مُقتدی کھڑے ہیں صف بہ صف ابھی
جنھیں جہان بھر کی مُشکلات آدبوچ لیں
انھیں کے واسطے ہے عافیت ، یہ گوشۂ نجف ابھی
رِدائے نیند سے نہ ڈھانپ چشمِ خواب ناک تُو
دُرست ہی نہیں ، مکانِ عشق پَر ہَدف ابھی
جو اہلِ ظرف تھے یہاں ، وہ پا گئے ہیں مرتبے
کسی بھی بدمعاش ، کو مِلا نہیں شرف ابھی
گُلوں کی خوشبوئیں سمیٹ ، سہ پہر کی دھوپ میں
پَلٹ سکی نہ چھائوں ، آفتاب کی طرف ابھی

Related posts

Leave a Comment